Jaun Elia poetry
جون ایلیا
عمر گزرے گی امتحان میں کیا (1
داغ ہی دیں گے مجھ کو دان میں کیا
میری ہر بات بے اثر ہی رہی
نقص ہے میرے بیان میں کیا
مجھ کو تو کوئی ٹوکتا بھی نہیں
یہی ہوتا ہے خاندان میں کیا
(2)
تم حقیقت نہیں ہو حسرت ہو
جو ملے خواب میں وہ دولت ہو
میں تمہارے ہی دم سے زندہ ہوں
مر ہی جاؤں جو تم سے فرصت ہو
تم ہو خوشبو کے خواب کی خوشبو
اور اتنی ہی بے مروت ہو
تم ہو پہلو میں پر قرار نہیں
یعنی ایسا ہے جیسے فرقت ہو
تم ہو انگڑائی رنگ و نکہت کی
کیسے انگڑائی سے شکایت ہو
کس طرح تمہیں چھوڑ دوں جانا ں
تم میری زندگی کی عادت ہو
کس لیے دیکھتی ہو آئینہ
تم تو خود سے بھی خوبصورت ہو
داستاں ختم ہونے والی ہے
تم میری آخری محبت ہو
جون ایلیا
3)
عذاب ہجر بڑھا لوں اگر اجازت ہو
ایک اور زخم میں کھا لوں اگر اجازت ہو
تمہارے عارض و لب کی جدائی کے دن ہیں
میں جام منہ سے لگا لوں اگر اجازت ہو
تمہارا حسن، تمہارے خیال کا چہرہ
شباہتوں میں چھپا لوں اگر اجازت ہو
تم ہی سے ہے میرے ہر خواب شوق کا رشتہ
ایک اور خواب کما لوں اگر اجازت ہو
تھکا دیا ہے تمہارے فراق نے مجھ کو
کہیں میں خود کو گرا لوں اگر اجازت ہو
(جون ایلیا)
(4)
اب نکل آؤ اپنے اندر سے
گھر میں سامان کی ضرورت ہے
ہم نے جانا تو یہ جانا
جو نہیں ہے وہ خوبصورت ہے
خواہشیں دل کا ساتھ چھوڑ گئیں
یہ اذیت بڑی اذیت ہے
لوگ مصروف جانتے ہیں مجھے
یا ں میرا غم ہی میری فرصت ہے
اج کا دن بھی عیش سے گزرا
سر سے پا تک بدن سلامت ہے

Comments
Post a Comment